صحابۂِ کرام کا مقام بزبانِ بشر حافی

 حامدًا وّ مُصَلِّیًا وّ مُسَلِّمًا

امّا بعد

  فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرّجیم

بسم اللہ الرَّحمٰن الرّحیم

اِنَّ اللَّٰہَ وَ مَلَائِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ط یٰاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا 

جَزَاللّٰہُ عَنَّا سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ ﷺ مَاھُوَ اَھْلُہٗ


آج دوران مطالعہ بشر حافی کی صحابہ سے محبت کے حوالے سے ایک بات نظروں سے گزری اس قدر پسند آگئی کہ دل نے چاہا سب دوستوں تک پہنچا دوں

سری سقطی فرماتے ہیں میں نے بشر حافی کا کہتے سنا 

کہ اگر تمام رومی افواج مسلمانوں کے علاقے زیر کرنے کے لئے شہر کے دروازے پر پہنچ جائیں پھر ایک مجاہد اپنی تلوار لے کر نکلے اور اس رومی فوج کو واپس لوٹا دے 

پھر فرمایا 

کہ اس کے بعد اگر وہ مجاہد کسی ایک صحابی کی شان میں سوئی کے ناکے کے برابر گستاخی کر دے تو اس کا یہ عظیم جہاد اس کو ہرگز کوئی فائدہ نہیں دے گا

پتہ چلا اولیاء کے نظروں میں بندے کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک صحابی سے پیار کرنا شروع نہ کردے

آپ فرماتے ہیں 

میں نے دین کے معاملے میں غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ سب لوگوں کی توبہ قبول ہو جائے گی سوائے ان لوگوں کے جو نبی علیہ السلام کے اصحاب کے بارے میں حرف گیری کرتے ہیں بے شک اللہ تعالی ان سے توبہ کی توفیق سلب فرما دیتا ہے 



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی