حرف اوّل

        حرف اوّل

   بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّار وَ الصَّلوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ الشَّاھِدَ الْمُخْتَارِ وَعَلٰی اصحَابِہِ الْاَخْیَارِ و اٰلِہِ الْاَطْھَارِ

حضرت محمد حسین بن مسعودفرأ بغوی "رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ" (متوفی ٤١٢ ہجری) بڑے متّقی عالم اور تارک الدنیا بزرگ تھے۔ زندگی نہایت سادگی اور دینداری کے ساتھ بسر کی۔ روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کیا ۔ آپ کی کنیت ابو محمد اور لقب فراء ہے کیونکہ پوستین کی تجارت فرمایا کرتے تھے۔ ہرات اور برخس کے درمیان ایک بستی بغو کے رہنے والے تھے لہذا بغوی کہلاۓ۔

آپ رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ شافعی المذہب تھے۔ خواب میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا " تونے میری سنت زندہ کی اللہ تجھے زندہ رکھے" اسی ارشادِ عالی کے حوالے سے "محی السنہ" خطاب پایا۔ اسی سال کی عمر پاکر ٤١٢ ہجری میں مقام کرد میں وصال فرمایا اور اپنے استاد قاضی حسین رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے پہلو میں دفن ہوئے

آپ رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے "مصابیح" "شرح السنہ" "تفسیر معالم التنزیل" "کتاب التہذیب" "فتاوٰی بغویہ" وغیرہ تصنیف فرمائی۔ صحاح ستہ اور دیگر کتب حدیث سے انتخاب فرما کر آپ رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے "مصابیح" میں چار ہزار چار سو چونتیس احادیث جمع فرمائی جن میں دو ہزار چار سو چونتیس احادیث "صحیح بخاری شریف" اور "صحیح مسلم شریف" سے لی گئی تھیں۔ 

امام شیخ ولی الدین محمد بن عبداللہ خطیب تبریزی (متوفی ٧٤٠ ہجری)نے نئے سرے سے ترتیب و تدوین کی اور اس میں مزید ایک ہزار پانچ سو گیارہ احادیث کا اضافہ فرماکر اس کا نام مشکٰوة المصابیح رکھا۔

مشکوةالمصابیح کو بہت جلد حلقۂ محدثین اور عوام الناس میں مقبولیت حاصل ہوئی جس کا اصل سبب یہ تھا قارئین حدیث کو ایک ہی کتاب میں تمام معاملاتِ زندگی سے متعلقہ ذخیرۂ حدیث میسر آگیا۔ مختلف زبانوں میں اسکے تراجم اور شرحیں شایع ہوئیں, ہورہی ہیں اورہوتی رہیں گی ان شاء اللہ عربی زبان میں "مرقاة المفاتیح"از حضرت ملا علی قاری ابنِ سلطان محمد الہروی رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ(متوفی ١٠١٤ہجری) اور شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ (متوفی ١٠٥٢ ہجری) کی عربی میں  "لمعات" اور فارسی میں "اشعة المعات" موجود ہیں 

اردو زبان میں شیخ الحدیث والتفسیر حضرت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ آٹھ ضخیم جلدوں میں "مرأة المناجیح"  کے نام سے شرح کی جو خواص و عوام میں یکسا مقبول ہے کیونکہ مفتی صاحب رَحْمَةُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کا اسلوبِ تحریر آسان, سلیس اور عام فہم ہے جو تمام قارئین حدیث کے لئے انتہائی مفید ہے۔ احادیث پر اعتراضات کے مدلل جوابات کے ساتھ ساتھ احادیث کی روشنی  میں نئے پیدا ہونے والے مذاہب کا ابطال بھی کیا ہے 

بعد ازیں 

قارئین کی سہولت کے لئے اس میں کچھ اضافے کئے گئے۔ جہاں جہاں دورانِ شرح قرآنی آیات آئی ہیں ان کا حوالہ جات(سورت نمبر, آیت نمبر) درج کر دیئے گئے ہیں۔ ان پر اعراب لگائے گئے ہیں اور ایمان افرور ترجمہ کنزالایمان کی خوبصورتی سے میزن کیاگیا ہے

اللہ کی مدد اور توفیق پر اعتماد رکھتے ہوئے ہم نے سرچ انجن گوگل کی اردو ویب سائٹ

https://www.mudarristeacher.com/?m=1 پر اس ضخیم اور مایہ ناز کتاب"مرأة المناجیح"کو ٹائپ کرنے کا کام شروع کیا ہے

اللّٰہ تعالٰی کی بارگاہِ بیکس پناہ میں دعا ہے کہ اللّٰہ پاک اس بار گراں و کارِ خیر میں توفیق و استعانت عطافرماۓ

طالبِ دعا 

نور محمد قلندرانی نقشبندی



 

 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی