مختصر سوانح حیات مفتی احمد یار خان نعیمی

 مختصر سوانح حیات مفتی احمد یار خان نعیمی

 تعارف

حکیم الامت مفسر قرآن مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی ؒ یوسفزئی پٹھان قبیلے سے تعلق رکھتے تھے آپ کے خاندان کے چند افراد غالبًا مغل دور میں افغانستان سے ہجرت کرکے ہندستان آئے تھے۔ آپ کے دادا جان مرحوم منورخان ؒ اوجھیانی (بدایونی ہندستان) کے معزز لوگوں میں شمار ہوتے تھے اور اپنے ہاں کے میونسپل کمیٹی کے ممبر بھی تھے۔ آپ کے والد کا نام محمد یار جو ایک دیندار عبادت گزار انسان تھے۔  انہوں نے اوجھیانی(بدایون) کی جامع مسجد میں امامت, خطابت,اور انتظامی امور اپنے ذمے لے رکھا تھا۔ اور یہ خدمات انہوں نے مسلسل ٣٥ سال تک بلا معاوضہ سر انجام دیں۔

 پیدائش

مولانا محمد یار ؒ کے ہاں یکے بعد دیگرے پانچ لڑکیا پیدا ہوئی تھیں۔ پانچویں لڑکی کے بعد مولانا محمد یار ؒ نے اللّٰہ تعالی سے اولاد نرینہ کے لئے خاص دعا مانگی اور ساتھ ہی یہ نذر مانی کہ اگر لڑکا پیدا ہوا تو اسے اللہ جلّ جلالہ اور اسکے رسول ﷺ کے راستے می  بسلسلۂ خدمت دین وقف کردوں گا۔ اللہ تعالی نے یہ دعا قبول فرمائی اور انہیں فرزند عطا فرمایا جس کا نام "احمد یار" رکھا گیا۔ مولانا محمد یار ؒ نے اپنی نذر کے مطابق اس بچے سے حصول علم دین کے علاوہ کوئی کام نہیں لیا اور اس بچے نے بھی آگے چل کر اپنی عملی زندگی سے ثابت کردیا کہ واقعی احمد یار تھا ہی اس قابل کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے راستے میں وقف کیا جاتا۔ حضرت مفتی احمد یار خان ؒ کا سن ولادت ١٣٢٤ ہجری ہے

زمانۂ طالب علم

مفتی صاحب کے طالب علمی کو پانچ مقامات پر تقسیم کیا جاتا ہے (١) اوجھیانی(٢) بدایون شہر (٣) میندھو (٤) مرادآباد (٥) میرٹھ

 مشہور اساتذۂ کرام

(١) مولانا محمد یار خان ؒ (٢)حضرت علامہ مولانا مفتی محمد نعیم مراد آباد ؒ(٣) علامہ مشتاق احمد کانپوری ؒ (٤) علامہ قدیر بخش بدایونی ؒ 

ؒزیارتِ اعلٰی حضرت

مفتی صاحب کے بقول میں دس بارہ سال کی عمر میں اعلٰی حضرت کے دیدار کے لئے بریلی شریف حاضر ہوا تھا۔ ان دنوں ستائیس رجب قریب تھی اور اعلٰی حضرت کی زیارت کا شرف حاصل ہوا اور اعلٰی حضرت سے عقیدت زندگی کا سرمایہ بن گئی۔

 مشہور تصانیف

 تفسیر نعیمی(٢) نور العرفان حاشیہ بر کنز الایمان(٣) علم(١) القراٰن(٤) انشراحِ بخاری المعروف نعیم الباری (٥) مرأة المناجیح شرح مشکٰوةالمصابیح(٦) علم المیرث(٧) جاء الحق(٨) شانِ حبیب الرحمٰن (٩) رحمتِ خدا بوسیلۂ اولیاء (١٠) اسلامی زندگی(١١) معلم تقریر(١٢) مواعظِ نعیمیہ (١٣) سفر نامۂ حجاز وقبلتین (١٤) حضرت امیر معاویہ ؓ پر ایک نظر(١٥) فتٰوٰی نعیمیہ(١٦) رسائلِ نعیمیہ(١٧) (١٨) خطباتِ نعیمیہ

درس و تدریس

مفتی صاحب تحصیلِ علم سے فارغ ہو کر مختلف مقامات پر درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ حضرت صدر الفاضل ؒ نے انہیں جامعہ نعمیہ مراد آباد میں تدریس کے فرائض سونپے۔ مراد آباد میں دورانِ تدریس دھوراجی کاٹھیاواڑ کے مدرسہ مسکینیہ کے منتظمیں کی جانب سے صدر الفاضل سے درخوست کی گئی کہ دھوراجی میں ایک جامع الصفات اور بلند پایہ عالم دین بھیجا جاۓ جو تدریس, فتوی, خطبات, اور تمام امور دینی کو احسن طریقے سے سرا انجام دے سکے۔ صدر الفاضل نے مفتی صاحب کو دھوراجی جانے کی ھدایت فرمائی۔ مدرسہ مسکینیہ میں بظاہر کم عمر اور نو خیز دکھائی دینے والے مفتی صاحب نےمدرسہ کے منتظمین کو اپنے علمی کمالات اور فاضلانہ مباحث سے حیران و  ششدر کردیا تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کی صدر الفاضل نے ہمارے پاس "بحر العلو" بھیج دیا ہے۔ کچھ عرص بعد مفتی صاحب تدریس کے لئے دوبارہ مراد آباد تشریف لے آۓ۔  بعد ازیں مفتی صاحب کو بھکھی شریف ضلع گجرات (پاکستان) سیدنا جلاک الدین شاہ کے دار العلوم بھجوایا گیا۔ یہاں کوئی وابستگی پیدا نہ ہوسکی تو لاہور تشریف لے گئے کہ وطن واپس چلے جائیں ان دنوں صاحبزادہ سید محمود صاحب (ابن پیر ولایت شاہ صاحب ؒ) حز ب الاحناف لاہور میں زیرِ تعلیم تھے۔ انہوں نے سید ابوالبرکات کی وساطت سے مفتی صاحب سے درخوات کی کہ آپ وطن واپس نہ جائیں  بلکہ انجمن خدامِ صوفیہ کے دار العلوم میں تدریسی فرائض سمبھال لیں  وہاں ایک جید عالم دین کی ضروت ہے۔ اہل گجرات کی خوش نصیبی کہ مفتی صاحب رضامند ہوگئے پھر وہ گجرات کے اور گجرات ان کا ہو کر رہ گیا۔ مذکورہ دارالعلوم میں آپ کوئی بارہ تیرہ برس مدرس رہے۔   گجرات میں ہی مسجد غوثیہ (چوک پاکستان ) میں سالوں بلاناغہ قرآن مجید کا درس دیتے رہے کوئی انیس بیس  بعد پہلی مرتبہ قرآن مجید کا درس مکمل ہو اور پھر دوبارہ شروع کیا گیا

 شخصیت

 مفتی صاحب کی شخصیت کا منفرد پہلو یہ تھا آپ وقت کے انتہائی قدردان اور اپنے معمولات و مشاغل  کے سلسلے مین تعینِ وقت کے پابند تھے۔ ہر کام بڑے سلیقے سے اپنے مقررہ وقت میں سر انجام دیتے۔ حتٰی کہ لوگ آپکی معمولات دیکھ کر وقت کا اندازہ کر لیا کرتے تھے۔  صحیح وقت پر نماز کے لئے مسجد جاتے تھے۔ آپ ان لوگوں سے میں ہیں جنکی شریعت بمنزلہ طبیعت بن جاتی ہے۔ نماز,درود,زیارات و حج سے بے پناہ شغف تھا۔ آپ نے کئی حج بھی کئے اور زیارات کے لئے تشریف لے گئے۔ سفر ہو کہ حضر تہجد پابندی سے ادا فرماتے۔ 

 وفات حسرت آیات 

٣ رمضان المبارک ١٣٩١ بمطابق 24 اکتوبر 1971 عیسوی کو اپنے خالقِ  حقیقی سے جاملے



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی