نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم


 نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم

مگر نازم بہ آں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم 

  میں نہیں جانتا کہ آخر محبوب کو دیکھتے ہی میں رقص کیوں کر رہا ہوں لیکن پھر بھی مجھےاپنی اس خوش ذوقی پر ناز ہے کہ میں اپنے محبوب کے سامنے رقص کر رہا ہوں۔ 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

تو ہر دم می‌ سُرائی نغمہ و ہر بار می رقصم 

بہ ہر طِرزے کہ می رقصانی ام اے یار می رقصم 

 اے محبوب! تو ہر دم نغمہ سرائی کرتا ہے اور میں ہر بار رقص کرتا ہوں، جس طرح تو مجھے رقص کرانا چاہتا ہے میں رقص کرتا ہوں۔ 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را 

زہے تقویٰ کہ من با جبہ و دستار می رقصم 

 کیسی اچھی وہ رندی ہے کہ سینکڑوں پارسائی کو پامال کرتی ہے، کیا خوب تقویٰ ہے کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ رقص میں ہوں (یعنی جبہ و دستار اہل تقویٰ کی علامت ہے اور رقص رندوں کا طریقہ ہے لیکن محبت میں بے خودی کا یہ عالم ہے کہ جبہ و دستار کی اہمت بھی باقی نہ رہی )۔ 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

 تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون من ریزی 

من آں بسمل کہ زیر خنجر خونخوار می رقصم 

 تو وہ قاتل ہے کہ برائے تماشا میرا خون بہانا چاہتا ہے، اور میں وہ بسمل ہوں جو خنجرِ خونخوار کے نیچے رقص کر رہاہوں۔ 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

بیا جاناں تماشہ بیں کہ در انبوہ جاں بازاں 

بصد سامان رسوائی سرِ بازار می رقصم 

 اے معشوق! آ دیکھ کہ جانبازوں کے اس مجمع میں بصد سامان رسوائی میں رقص کر رہا ہوں۔ 

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

منم عثمان ہارونیؔ کہ یارِ شیخ منصورم 

ملامت می کند خلقے و من بر دار می رقصم 

 میں عثمان ہارونی، شیخ منصور حلاج کے نقش قدم پر ہوں کہ لوگ ہر طرف سے مجھے ملامت کر رہے ہیں اور میں در پر بھی رقص کر رہا ہوں (رقص سے یہاں مراد فی الواقع رقص نہیں ہے بلکہ عشق الٰہی میں خود سپردگی اور بے خودی مراد ہے، عشق الٰہی سے جب دل آشنا ہو جاتا ہے تو سر تسلیم خم کر دینے کے سوا چارہ نہیں رہتا، مشیخت کا وقار، دستار کی عظمت، جبے کا وزن، اور پارسائی کا غرور، سب گرد ہو جاتے ہیں اور وہی ہوتا ہے جو معشوقِ حقیقی چاہتا ہے، عاشق کی خواہشا ت معشوق کی مرضیات میں ڈھل جاتی ہیں)۔


عثمان ہارونیؔ




ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی