جنت کی ہوا

 جنت کی ہوا کیسی عمدہ و خوشگوار اور پاکیزہ ہے

جنت کی خوشبو
جنت کی خوشبو


حضرت سید ناانس بن مالک "رضی اللہ تعالی عنہ"فرماتے ہیں میرے چچا حضرت سیدناانس بن نضر"رضی اللہ تعالی عنہ" غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکے، جب ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے افسوس کرتےہوۓ فرمایا: غزوہ بدرجوکہ مسلمانوں اورکفارکےدرمیان پہلی جنگ تھی میں اس میں شریک نہ ہو سکا۔ اگراب اللہ پاک نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کا موقع عطافرمایاتو تو دیکھےگا کہ میں کس طرح بہادری سے لڑتا ہوں، پھرجب غزوہ احدکاموقع آیاتو کچھ لوگ بھاگنےلگے، میرے چچا حضرت انس بن نضر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے عرض کی : اے میرے پروردگار! ان بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں، میں ان کی طرف سے معذرت خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں، میں ان سے بری ہوں۔ پھر آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" تلوار لے کر میدان کار زار کی طرف دیوانہ وار بڑھے۔ 

راستےمیں حضرت سید ناسعد "رضی اللہ تعالی عنہ" سے ملاقات ہوئی تو فرمایا: اے سعد "رضی اللہ تعالی عنہ"! کہاں جاتے ہو؟ اس پاک پروردگاکی قسم جس کےقبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں احد پہاڑکے قریب جنت کی خوشبومحسوس کر رہا ہوں (پھر یہ کہتے ہوئے آگےبڑھے واہ جنت کی ہوا کیسی عمدہ و خوشگوار اور پاکیزہ ہے۔)

بار بار یہی کلمات دہراتے رہے 


بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہو گئے


حضرت سیدنا سعد"رضی اللہ تعالی عنہ" فرماتے ہیں: جیسا کارنامہ انہوں نے سرانجام دیا ہم ایسا نہیں کر سکتے، جب آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کی لاش مبارک کو ڈھونڈا گیا تو ہم نے اسے شہیدوں میں پایا، آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کے جسم مبارک پر تیروں،تلواروں اور نیزوں کے اسی (80 ) سے زائد زخم تھے، اور آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کے اعضاء جگہ جگہ سے کاٹ دیئے گئے تھے، آپ "رضی اللہ تعالی عنہ"کو پہچاننا بہت مشکل ہو چکا تھا۔ پھر آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کی ہمشیرہ نے "آپ رضی اللہ تعالی عنہ" کو انگلیوں کے نشانات سے پہچانا، حضرت سید نا انس "رضی اللہ تعالی عنہ" فرماتے ہیں 

ہم آپ"رضی اللہ تعالی ہنہ"کو دیکھ کر یہ آیت پڑھ رہے تھے

: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نےسچا کر دیا جوعہد اللہ سے کیا تھا۔




ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی