پرانی امتوں کا ایک کنجوس اور اسکا انجام

پرانی امتوں کا ایک کنجوس اور اسکا انجام

ایک کنجوس اور اس کا انجام
بخیلی کا انجام

حضرت سید نا یزید بن میسرہ"رحمۃ اللہ علیہ" فرماتے ہیں: ہم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جس نے بہت زیادہ مال متاع جمع کیا ہوا تھا، اوراس کی اولاد بھی کافی تھی طرح طرح کی نعمتیں اسے میسر تھیں، کثیر مال ہونے کے باوجود وہ انتہائی کنجوس تھا۔ اللہ تعالی کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہ کرتا ، ہر وقت اس کوشش میں رہتا کہ کسی طرح میری دولت میں اضافہ ہو جائے ۔ جب وہ بہت زیادہ مال جمع کر چکا تو اپنے آپ سے کہنے لگا: اب تو میں خوب عیش وعشرت کی زندگی گزاروں گا ۔


وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوب عیش وعشرت سے رہنے لگا۔ بہت سے خادمین ہر وقت ہاتھ باندھے اس کے حکم کے منتظر رہتے، المختصر! وہ ان دنیاوی آسائشوں میں اس طرح سے مگن ہوا کہ اپنی موت کو بالکل بھول گیا۔ ایک دن ملک الموت ایک فقیر کی صورت میں اس کے گھر آئے اور دروازہ کھٹکھٹا یا۔  غلام فور دروازے کی طرف دوڑے، اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے ایک فقیر کو پایا، اس سے پوچھا: تو یہاں کس لئے آیا ہے؟ ملک الموت نے جواب دیا: جاؤ ، اپنے مالک کو باہر بھیجو مجھے اس سے کام ہے۔ خادموں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا: وہ تو تیرے ہی جیسے کسی فقیر کی مدد کر نے باہر گئے ہیں۔ حضرت سید نا ملک الموت "علیہ السلام"یہ سن کر وہاں سے چلے گئے ۔ کچھ دیر بعد دوبارہ آۓ اور درواز کھٹکھایا ، خدام باہر آۓ تو ان سے کہا: جاؤ ، اور اپنے آقا سے کہو کہ میں ملک الموت "علیہ السلام" ہوں

جب اس مالدار شخص نے یہ بات سنی تو بہت خوف زدہ ہوا اور اپنے غلاموں سے کہا: جاؤ ، اور ان سے بہت نرمی سے گفتگوکرو۔

خدام باہر آئے اور حضرت عزرائیل علیہ السلام سے کہنے لگے: آپ ہمارے آقا کے بدلے کسی اور کی روح قبض کرلیں اور اسے چھوڑدیں، اللہ تعالی آپ کو برکتیں عطا فرماۓ۔

حضرت عزرائیل"علیہ السلام" نے فرمایا: ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ پھر حضرت عزرائیل "علیہ السلام" اندر تشریف لےگئے ،اور اس مالدار شخص سے کہا: تجھے جو وصیت کرنی ہے کر لے، میں تیری روح قبض کئے بغیر یہاں سے نہیں جاؤں گا۔


یہ سن کرسب گھر والے چیخ اٹھے اور رونا دھونا شروع کر دیا، اس شخص نے اپنے گھر والوں اور غلاموں سے کہا: سونے اور چاندی سے بھرے ہوۓ صندوق اور تابوت کھول دو، اور میری تمام دولت میرے سامنے لے آؤ۔ فورا حکم کی تعمیل ہوئی، اور سارا خزانہ اس کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا۔ وہ شخص سونے چاندی کے ڈھیر کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ذلیل و بدترین مال! تجھ لعنت ہو، تو نے ہی مجھے پروردگار کے ذکر سے غافل رکھا، تو نے ہی مجھے آخرت کی تیاری سے روکے رکھا۔


وہ مال اس سے کہنے لگا: تو مجھے ملامت نہ کر، کیا تو وہی نہیں کہ دنیا داروں کی نظروں میں حقیر تھا؟ میں نے تیری عزت بڑھائی۔ میری ہی وجہ سے تیری رسائی بادشاہوں کے دربار تک ہوئی ورنہ غریب و نیک لوگ تو وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے ، میری ہی وجہ سے تیرا نکاح شہزادیوں اور امیر زادیوں سے ہوا ۔ ورنہ غریب لوگ ان سے کہاں شادی کر سکتے ہیں۔ اب یہ تو تیری بدبختی ہے کہ تو نے مجھے شیطانی کاموں میں خرچ کیا۔ اگر تو مجھے اللہ تعالی کے کاموں میں خرچ کرتا تو یہ ذلت ورسوائی تیرا مقدر نہ بنتی۔ کیا میں نے تجھ سے کہا تھا کہ تو مجھے نیک کاموں میں خرچ نہ کر؟ آج کے دن میں نہیں بلکہ تو زیادہ ملامت ولعنت کا مستحق ہے ۔

اے ابن آدم بے شک میں اور تو دونوں ہی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ پس بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نیکی کی راہ پر گامزن ہیں اور بہت سے گناہوں میں مستغرق ہیں ۔ امام ابن جوزی علیہ رحمہ اللہ القوی فرماتے ہیں: ' گو یا مال مرخص سے اس طرح کہتا ہے ، لہذا مال کی برائیوں سے بچ کر رہواورا سے نیک کاموں میں خرچ کرو


اجل نے نہ کسری ہی چھوڑا نہ دارا

 اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا

 ہراک لے کے کیا کیا نہ حسرت سدھارا

 پڑا رہ گیا سب یونہی ٹھاٹھ سارا

 جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے 

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی