حُمص کا گورنر حضرت سید ناعمیر بن سعد الانصاری




حُمص کا گورنر حضرت سید ناعمیر بن سعد الانصاری


والئ حُمص حضرت سیدنا عمیر بن سعد الانصاری
والئ حُمص حضرت سیدنا عمیر بن سعد الانصاری


حضرت سید ناعمیر بن سعد الانصاری "رضی اللہ تعالی عنہ" سے مروی ہے کہ حضرت سید نا عمر بن خطاب "رضی اللہ تعالی عنہ" نے انہیں حُمص کا گورنر بنا کر بھیجا۔ ایک سال گزر گیا لیکن ان کی کوئی خبر نہ آئی۔ چنانچہ حضرت سید نا عمر فاروق "رضی اللہ تعالی عنہ" نے کاتب کو بلایا اور فرمایا: عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" کی طرف خط لکھو کہ جیسے ہی تمہیں میرا یہ خط ملے فوراً میرے پاس چلے آؤ مال غنیمت و خراج وغیرہ بھی ساتھ لیتے آنا۔ جب حضرت سید نا عمیر بن سعد "رضی اللہ تعالی عنہ" کوامیرالمؤمنین "رضی اللہ تعالی عنہ" کا پیغام ملا تو آپ نے اپنا تھیلا اٹھایا، اس میں زادراہ اور ایک پیالہ رکھا، پانی کا برتن لیا پھر اپنی لاٹھی اٹھا کر پیدل ہی سفر کرتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچ گئے ۔ 

 آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" حضرت سید نا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" کی خدمت میں اس حال میں حاضر ہوۓ کہ آپ کا چہرہ گردآلود اور رنگ متغیر ہو چکا تھا ۔ اور طویل سفر کے آثار چہرے پر ظاہر تھے ۔ آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے حاضر ہوتے ہی السّلام عـلـيـكـم يـا أمير المؤمنين ورحمةالله وبركاته ومغفرتہ کہا۔ 

حضرت سیدنا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: اے عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" تمہارا کیاحال ہے؟‘‘ 

حضرت سید نا عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے عرض کی : میراوہی حال ہے جو آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" دیکھ رہے ہیں ، کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ میں صحیح و سالم ہوں اور دنیا میرے ساتھ ہے جسے میں کھینچ رہا ہوں ۔

حضرت سیدنا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے پوچھا: تم کیا کچھ لے کر آئے ہو؟ آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کا گمان تھا کہ شاید حضرت عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" مال غنیمت وغیرہ لاۓ ہوں گے ، حضرت عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے عرض کی : میرے پاس میرا تھیلا ہے جس میں ا پناز ادراہ رکھتا ہوں ، ایک پیالہ ہے جس میں کھانا کھا تا ہوں اور اسی سے اپنا سراور کپڑے وغیرہ دھوتا ہوں ، ایک پانی کابرتن ہے جس میں پانی پیتا ہوں اور وضو وغیرہ کرتا ہوں اور ایک لاٹھی ہے جس پر ٹیک لگا تا ہوں اور اگر کوئی دشمن آ جاۓ تو اسی لاٹھی سے اس کا مقابلہ کرتا ہوں ، خدا کی قسم! اس کے علاوہ میرے پاس دنیاوی مال و متاع نہیں۔ حضرت عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے دریافت فرمایا: اے عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ"! کیا تم پیدل آۓ ہو؟

انہوں نے عرض کی: جی ہاں

 آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے پوچھا: کیا مسلمانوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جوتمہیں سواری دیتا تا کہ تم اس پرسوار ہوکر آتے؟

آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے عرض کیا: نہیں ، ان میں سے کسی نے مجھے کہا نہ ہی میں نے کسی سے سوال کیا۔

حضرت سید نا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے فرمایا: وہ کتنے برےلوگ ہیں جن کے پاس سے تم آۓ ہو۔ حضرت عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے کہا: اے عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" انہیں برانہ کہئے، میں ان لوگوں کو صبح کی نماز پڑھتے چھوڑ کر آیا ہوں ، وہ اللہ عزوجل کی عبادت کر نے والے ہیں ۔ حضرت عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے پوچھا تم جس مال کی وصولی کے لئے بھیجے گئے تھے وہ کہاں ہے؟ اور تم نے وہاں رہ کر کیا کیا کام سرانجام دیئے؟

حضرت عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے عرض کی: آپ مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں ؟ 

حضرت سید نا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے فرمایا: سبحان اللہ میں جو پوچھنا چاہتا ہوں وہ بالکل واضح ہے۔

حضرت سیدنا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے عرض کی : اللہ تعالی کی قسم!  اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ میرے نہ بتانے سےآپ کو غم ہو گا تو میں ہرگز آپ کو نہ بتا تا،  سنئے ! جب آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے مجھے بھیجاتھا تو وہاں پہنچ کر میں نے وہاں کے تمام نیک لوگوں کو جمع کیا اور انہیں مال جمع کرنے کے لئے کہا۔ جب انہوں نے مال غنیمت اور جزیہ وغیرہ جمع کر لیا تو میں نے اس مال کو اس کے مصارف ( یعنی خرچ کرنے کی جگہوں میں خرچ کر دیا۔ اگر اس میں سے کچھ بچتا تو میں یہاں ضرور لے کر آتا ‘‘حضرت عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے دریافت فرمایا: تم یہاں کچھ بھی نہیں لے کر آۓ؟‘‘ 


انہوں نے عرض کی: ’’نہیں۔ حضرت عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے فرمایا: حضرت عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" کو دوبارہ وہاں کا حاکم بنا کر بھیجا جا تا ہے اس کے لئے عہد لکھو‘‘حضرت  عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے جب یہ سنا تو عرض کی : اب میں یہ کام نہ تو آپ کے لئے کروں گا نہ آپ کے بعد کسی اور کے لئے ، کیونکہ اس کام میں میں اپنے آپ کو گناہوں سے نہیں بچا سکتا بلکہ مجھ سے ایک خطا بھی سرزد ہوئی ہے، میں نے ایک نصرانی کو یہ کہ دیا تھا کہ اللہ تجھے رسوا کرے حالانکہ وہ ہمیں جزیہ دیا کرتا تھا اور ذمی کافر کو اذیت دینا منع ہے لہذا میں اب ایسا عہدہ قبول نہیں کروں گا ۔ پھر انہوں نے ۔ حضرت سیدنا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" سے اجازت چاہی اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔


ان کا گھر مدینہ منورہ سے کافی دور تھا۔ وہ پیدل ہی گھر کی جانب چل دیئے۔ جب وہ چلے گئے تو حضرت سید نا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ان کے بارے میں تحقیق کرنی چاہئے ۔ لہذا آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے حارث نامی ایک شخص کو بلایا اور اسے ایک سودینار دے کر فرمایا: تم حضرت عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس جاؤ اور وہاں مہمان بن کر رہو، اگر وہاں دولت کے آثار دیکھوتو واپس آجانا اور اگر انہیں تنگدستی اور فقر وفاقہ کی حالت میں پاؤ تو یہ دینار انہیں دے دینا۔  جب وہ شخص وہاں پہنچا تو دیکھا کہ حضرت سید نا عمیر رضی اللہ تعالی عنہ ایک دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور اپنے گرتے سے گردوغبار وغیرہ صاف کر رہے ہیں ۔ وہ ان کے پاس گئے اور سلام عرض کیا ، آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے جواب دیا اورفرمایا: اللہ تعالی آپ پر رحم فرماۓ ، آپ ہمارے ہاں مہمان ہو جائے ۔ لہذا وہ ان کے ہاں بطور مہمان ٹھہر گیا پھر حضرت سید ناعمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے پوچھا: آپ کہاں سے تشریف لاۓ ہیں؟ اس نے کہا: میں مدینہ منورہ سے آیا ہوں ۔  حضرت سیدنا عمیر رضی اللہ تعالی عنہ نے پوچھا: امیرالمؤمنین کو کس حال میں چھوڑ کر آۓ ہو؟ جواب دیا: ’اچھی حالت میں ۔ پھر آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے پوچھا: کیا حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ مجرموں کو سزا نہیں دیتے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ وہ حدود قائم فرماتے ہیں اور انہوں نے تو اپنے بیٹے پر بھی کسی خطا پر حد قائم فرمائی یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے ۔ حضرت سید نا عمر رضی اللہ تعالی نے نے کہا اے  اللہ عز وجل! تو حضرت سید نا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" کوعزت عطافرما،ان کی مددفرما، بے شک وہ تجھ سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں ۔


وہ شخص حضرت سید نا عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" کے ہاں تین دن مہمان رہا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں جو کی ایک روٹی ہوتی جو اسے کھلا دیتے اور خود بھو کے رہتے ۔ یہاں تک کہ آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" مشقت میں پڑ گئے اور آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کو بہت زیادہ پریشانی ہونے لگی ۔ چنانچہ آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے اس سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا: ہمیں بہت زیادہ پریشانی کا سامنا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہم سے رخصت ہو جائیں ، جب اس نے یہ سنا تو دینار نکال کر آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کی بارگاہ میں پیش کئے اور کہا: یہ امیر المؤمنین "رضی اللہ تعالی عنہ" نے آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کے لئے بھیجے ہیں ، انہیں قبول فرمائے اور اپنی ضروریات میں استعمال کیجے۔ جب آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے فرمایا: مجھے ان کی کچھ حاجت نہیں ، انہیں واپس لے جاؤ۔ لیکن آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کی زوجہ محترمہ "رضی اللہ تعالی عنہا" نے عرض کی: آپ انہیں قبول کر لیجئے ، اگر ان کی ضرورت محسوس ہوتو استعمال کر لینا ورنہ حاجت مندوں اور فقراء میں تقسیم فرمادینا۔ حضرت سید نا عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے فرمایا: بخدا میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس میں انہیں رکھ سکوں ۔  آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کی زوجہ محترمہ رضی اللہ تعالی عنہا" نے اپنے کرتے۔ کا نیچے والا حصہ پھاڑ کر دیا اور کہا: اس میں رکھ لیجئے ۔ آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے وہ دینار لے کر اس کپڑے میں رکھ لئے پھر گھر سے باہر تشریف لے گئے اور تمام دینار شہداء کے اقرباء اور فقراء ومساکین میں تقسیم فرما دیئے ۔ جب واپس گھر آۓ تو آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کے پاس ایک دینار بھی نہ تھا، دینار لانے والے کا گمان تھا کہ شاید مجھے بھی کچھ حصہ ملے گا لیکن آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے سب دینارفقراء میں تقسیم فرمادیئے تھے۔ پھر حضرت سید نا عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے اس سے فرمایا: امیرالمؤمنین "رضی اللہ تعالی عنہ"کومیر اسلام عرض کر نا ‘‘ پھر و شخص وہاں سے روانہ ہوکر حضرت سید نا عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے اس سے پوچھا: تم نے وہاں کیا دیکھا؟ عرض کی: بہت تنگدستی اور فقر وفاقہ کی حالت میں زندگی گزارر ہے ہیں ، پھر آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے پوچھا: انہوں نے دیناروں کا کیا کیا ؟ عرض کی:  مجھے معلوم نہیں ۔

حضرت سید نا عمر فاروق اعظم "رضی اللہ تعالی عنہ" نے ان کی طرف خط بھیجا اور اس میں لکھا: جیسے ہی ہمارا یہ خط پہنچے فورا ہمارے پاس چلے آؤ ،لہذا خط پا کر حضرت سیدنا عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ، حضرت عمر فاروق "رضی اللہ تعالی عنہ" نے ان سے پوچھا: آپ نے دینار کہاں خرچ کئے؟ بولے: میں نے جہاں چاہا انہیں خرچ کیا ، آپ ان کے متعلق کیوں پوچھ رہے ہیں ‘‘ آپ "رضی اللہ تعالی عنہ"نے فرمایا: میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں مجھے بتاؤ تم نے وہ دینار کہاں خرچ کئے؟ حضرت عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے عرض کی : میں نے وہ دینا اپنی آخرت کے لئے ذخیرہ کر لئے ہیں ۔ حضرت عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے فرمایا: اللہ تعالی  آپ پر رحم فرمائے اور آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کوخوش وخرم رکھے، اسی طرح حضرت عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" آپ کو دعائیں دیتے رہے، پھر حکم فرمایا: انہیں چھ من گندم اور کچھ کپڑے دے دیئے جائیں ۔آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نےکہا: مجھے گندم کی کوئی حاجت نہیں گھر میں دوصاع گندم چھوڑ کر آیا ہوں ، جب وہ ختم ہو جائے گی تو اللہ تعالی ہمیں اور عطافرمائے گا۔ پس آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" نے گندم قبول نہ فرمائی اور کپڑے بھی یہ کہہ کر لئے کہ فلاں غریب عورت کو ان کی حاجت ہے ، میں یہ کپڑے اسے دے دوں گا ، پھر آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے ۔ اور کچھ عرصہ بعد آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کا انتقال ہو گیا۔ اللہ تعالی کی ان پر رحمت ہو اوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین

جب حضرت سید نا عمر فاروق اعظم "رضی اللہ تعالی عنہ" کوان کے وصال کی خبر ملی تو آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کو بہت صدمہ ہوا اور آپ "رضی اللہ تعالی عنہ"ان کی تدفین کے لئے پیدل ہی جنت البقیع کی طرف چل پڑے، بہت سے لوگ بھی آپ "رضی اللہ تعالی عنہ" کے ساتھ تھے، جب حضرت عمیر "رضی اللہ تعالی عنہ" کودفن کر دیا گیا تو حضرت عمر "رضی اللہ تعالی عنہ" نے لوگوں سے کہا: تم اپنی اپنی خواہش کا اظہارکرو ۔ ان میں سے ایک شخص بولا : اے امیرالمؤمنین "رضی اللہ تعالی عنہ"! میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس بہت سامال ہو ۔ اور میں اس کے ذریعے غلاموں کو آزاد کرواؤں تا کہ اللہ تعالی کی رضا نصیب ہو ۔دوسرے نے کہا: میری یہ خواہش ہے کہ میرے پاس بہت سامال ہو جسے میں اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کر دوں ۔ ایک اور شخص نے کہا: میری خواہش ہے کہ اللہ عزوجل مجھے بہت زیادہ قوت عطافرماۓ تا کہ میں بــئـر زمــزم سے پانی نکال کر حجاج کو سیراب کروں ۔پھر حضرت عمر فاروق اعظم "رضی اللہ تعالی عنہ" نے ارشادفرمایا: میری تو یہ خواہش ہے کہ مجھے عمیر بن سعد "رضی اللہ تعالی عنہ" جیسے لوگ مل جائیں جنہیں میں گورنر بناؤں اور مسلمانوں کے کاموں کا والی بنادوں





ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی