مختصر سوانحِ عمری سلطان صلاح الدین ایوبی

فاتحِ بیت المقدّس و محافظِ روضۂ رسولﷺ  سلطان صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ علیہ

محا فظِ دینِ اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی


اسلام کی فتح و نصرت اور اعلاء کلمۃ الحق کے لئے اللہ پاک پر دور میں اپنے کچھ بندوں کو منتخب فرماتا ہے۔ جن میں ایک نام عظیم مجاہدِ اسلام ، عاشق رسول، سلطان الاسلام والمسلمين صلاح الدین یوسف بن ایوب کا بھی ہے۔ 


ولادت

 آپ "رحمة الله تعالی علیہ" تکریت عراق میں 532 ہجری میں پیدا ہوئے۔


   تلاوت قرآن سے محبت

آپ "رحمة اللہ تعالی علیہ" کثرت ِسے تلاوتِ قرآن کرتے اور جب تلاوت قرآن سنتے تو آنسو بہاتے۔ امام منتخب کرنے کیلئے بھی آپ نے یہ شرط ر کھی ہوئی تھی کہ قرآن عظیم کے علوم کا جانے والا متقی و پرہیز گار ہو، ایک دن آپ کہیں سے گزر رہے تھے کہ ایک بچہ اپنےوالد کے سامنے بہترین انداز میں تلاوت قرآن کر رہا تھا آپ نے اعزاز کے طور پر ان دونوں باپ بیٹے کیلئے ایک زمین وقف کر دیا تاکہ اس میں کاشت و غیرہ کے ذریعے سے وہ اپنا گزر بسر کر سکیں۔


 علم اور علماء سے محبت

آپ "رحمة اللہ علیہ" بہت ہی علم دوست تھے، علماء کی بہت عزّت کرتے،ان کے لئے عاجزی کرتے اور انکی ہم نشینی اختیار کرتے۔، پیچیدہ مسائل کے حوالے سے علماء کی باہمی گفتگو میں لازمی شریک ہوتے۔ جسکی بدولت شریعت مطہّرہ کے کئی احکام جان لیتے۔


مدارس و خانقاہوں کا قیام 

سلطان صلاح الدین ایوبی" رحمة اللہ علیہ" دین کی ترویج و اشاعت کے لئے کئی مدارس تعمیر کرائے۔ جن میں سے چند یہ ہیں

    مدرِسة الصلاحیہ 

  فراقة الصغریٰ (مصر)

   المدرِسة المجاورة للامام الشافعی( قاہرہ)

   المدرسة الحنفیة  جو بعد میں السیفیہ کے نام سے مشہور ہوا۔

 انکے علاوہ کئی مدارس کا قیام عمل میں لایا گیا اور ساتھ ہی ہر مدرسے کے لئے الگ الگ زمین وقف کی تاکہ مدارس کا نظام بہتر طریقے سے چلایا جا سکے۔    

اسی طرح لوگوں کی روحانی تربیت کے لئے کئی خانقاہوں کا قیام عمل میں لایاگیا جن میں مصر کا خانقاہ "سعید الساعدین"  سر فہرست ہے اور ساتھ ہی لوگوں کے علاج معالجہ کے لئے بہتریں حکماء کی خدمات حاصل کر کے کئی شفاء خانوں کا قیام بھی عمل میں لائے۔


اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ


آپ "رحمة اللہ علیہ" کا راہ خدا میں اپنی ہر چیز خرچ کرنے کا جذبہ مثالی تھا۔ بالخصوص جہاد میں شامل مسلمانوں کی حد درجہ مدد کرتے تھے۔ جس مجاہد کا گھوڑا جنگ میں زخمی ہوتا یا مارا جاتا تو اسکے بدلے اُس عمدہ گھوڑا عطاکرتے۔ اپنی ذات کے لئے کچھ بھی بچا کر نہ رکھتے اسی وجہ سے آخری  وقت تک آپ"رحمة اللہ علیہ" پر رکٰوة فرض نہ ہوئی۔


حجاج کے لئے آسانیاں پیدا کی

آپ "رحمة اللہ علیہ" دورِ  حکومت سے پہلے جو بھی مکہ مکرّمہ حج کرنے کے لئے جاتا تو اس سے ٹیکس لیا جاتا تھا اور جو ادا نہ کرتا  تو اسے قید کرلیا جاتا تھا جسکی وجہ دور دراز سے سفر کر کے آنے والے لوگوں کی رقم ٹیکس نذرِ ٹیکس ہوجاتی اور یو وہ حج سے محروم رہ جاتے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ علیہ نے حجاج سے ٹیکس بھی ختم کروادیا۔ جس کے بدلے امیرِ مکہ اور اہل مکہ کے لئے انکے گزربسر کی خاطر " 8 ہزار اِردَب یعنی " 15 ہزار 120 من" غلہ ہر سال مکہ بھجوایا کرتے۔


روزہ رسول ﷺ کی حفاظت


کڑک اور شوبک کے غیر مسلموں نے 578 ہجری سلطان صلاح الدین ایوب"رحمة اللہ علیہ کے زمانے میں جسم اطہر ﷺ کو روضہ راسول ﷺ سے نکالنے کا ناپاک ارادہ کیا۔ اس کے لئے انہوں نے باقاعدہ ایک لشکر مدینہ منوّرہ کی طرف بھیجا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی "رحمة اللہ علیہ" نے اطلاع ملتے ہی انکے پیچھے ایک لشکر روانہ فرمایا۔ ابھی لشکرِ کفار مدینہ منوّرہ سے ایک دن کے فاصلے پر تھا کہ مجاہدین اسلام شہر میں داخل ہونے سے پہلے ان تک پہنچ کر انکا کام تمام کردیا۔ 


فتح بیت المقدس

صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ جمانے کے لئےستر ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کردیا۔ اور آگے قبضہ برقرار رکھنے کے لئے مزید شہادتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ 483 میں سلطان صلاح الدین ایوبی "رحمة اللہ علیہ" نے بغیر خون بہائے کافروں سے صلح کرکے بیت المقدس حاصل کرلیا اسکے علاوہ اللہ ربّ العزت کی مدد سے کئی قلعوں اور علاقوں کو فتح کرلیا۔


وصال با کمال

اپ " رحمة اللہ علیہ"مرض کی حالت میں 27 صفر المظفر 589 قلعۂ دمشق میں شیخ ابو جعفر سے قرآن پاک تلاوت سنتے ہوئے اس دارِ بے بقا سے رخصت ہوئے


اللہ رب العزت آپ " رحمة اللہ علیہ" کوجنت میں اعلی مقام عطا فرماۓ اور انکے روضہ پر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے




ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی