بخیل کو دفن کیا ہوا خزانہ کیسے مل گیا؟

 بخیل کو دفن کیا ہوا خزانہ کیسے مل گیا؟  

بخیل کو دفن کیا ہوا خزانہ کیسے مل گیا؟
 خزانہ کہاں دفن کیا تھا؟ کنجوس کو نماز میں یاد آگیا 


ایک کنجوس اپنا خزانہ اپنے مکان میں دفن کرکے جگہ بھول گیا۔ اور روتا ہوا امام ابو حنیفہ "رحمة اللہ علیہ" کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضور! میں روپیہ اپنے مکان میں دفن کیا تھا مگر بھول گیا ہوں۔ حضور بتادیں کہ کس جگہ میں نے اپنا روپیہ وفن کیا تھا۔ 

امام اعظم نے فرمایا کہ بھائی کوئی مسئلہ ہو تو مجھ سے پوچھ لو خزانہ کہاں دفن ہے یہ بتانا میراکام نہیں ہے۔  مگر یہ شخص گڑ گڑا کر اصرار کرتا رہا۔ 

تو امام اعظم نے فرمایا کہ اچھا میں تجھے ایک عمل بتاتاہوں تو جا کر یہ عمل کر اگر اللہ نے چاہا تو تجھے تیرا خزانہ ضرور مل جاۓ گا 


پھر فرمایا تم جاؤ اورآج رات سو 100 رکعت نفل پڑھ لو .  مگر شاید یہ عمل نہ کر سکو۔ 

بخیل بھرّائی ہوئی آرواز میں بولا. نہیں حضور! میں یہ عمل ضرور کرونگا۔ رات کو گھر آیا تو مصلّٰی بچھاکر بڑے حضور قلبی کے ساتھ نماز نفل ادا کردی۔ ادھر شیطان کے پیٹ میں درد اٹھا کہ اگر اس نے سو رکعت پڑھ لی تو مقبول بارگاہ الٰہی ہوجائے گا۔ شیطان دوڑ کر آیا اور اس کے دل میں ایسا وسوسہ ڈالا کہ اسکو خزانے کی جگہ یاد آگئی۔ بس ہھر کیا تھا۔ نمازی دھک پھک کرنے لگا سٹاسٹا، کھٹا کھٹ جلدی جلدی نماز پوری کی۔ اب کہاں کا  مصلّٰی اور کہاں کی نمازی ؟ جلدی جلدی بھاگا اور کدال پھاؤڑا ڈھونڈنے لگا۔  کھودتے کھودتے خزانہ مل گیا۔ اسکے گننے اور سمبھالنے میں صبح ہوگئی۔ دوسری سے تیسری رکعت بھی نہ پڑھ سکا۔  

صبح امام اعظم "رضی اللہ عنہ " کی خدمت میں بقصدِ سلام حاضر ہوا اور بہت بہت شکریہ ادا کیا 

امام نے پوچھا رات کو سو 100 رکعت نماز پڑھ لی تھی؟  بولا نہیں حضور! پہلے دو رکعت میں ہی خزانہ کی جگہ یاد آگئی تھی۔ پھر کھودنے گننے اور رکھنے میں صبح ہوگئی۔ امام نے فرمایا کہ بھائی میں نے تو پہلے ہی کہ دیا تھا کہ شیطان تمہیں سو رکعت پڑھنے نہیں دیگا ۔ اور ویسا ہی ہوا




ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی