حضرت عبد اللہ بن سلام کا قبول اسلام

 حضرت عبد اللہ بن سلام کا قبول اسلام

حضرت عبداللہ بن سلام حضرت  یوسف ؑ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کا شمار اکابر علماء یھود میں ہوتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رَضِىَ اللهُ تَعَالٰی عَـنْهُ فرماتے ہیں کہ جب رسول رسول اللہﷺ  مدینہ منورہ میں قدم رنجہ ہوئے لوگ آپﷺ کی مبارک مجلس میں حاضری میں سبقت کرنے لگے تو میں بھی  انکے ہمراہ حضورﷺ  کی بارگاہ اقدس میں باریابی سے مشرف ہوا۔ جب میری پہلی نظر حضورﷺ  کی روئے اقدس پر پڑی تو میں نے جان لیا کہ یہ چہرہ کذابوں یعنی جھوٹوں کا نہیں۔ پھر میں آپﷺ کی زبان اقدس سے پند و نصیحت کے ارشادات سماعت کئے۔ اسکے بعد اپنے گھر لوٹ آیا۔   آپﷺ کی گفتگو  سے  بہت متاثر ہوا تھا لہذا دوسری مرتبہ خلوت میں حضورﷺ  کی خدمت میں حاضری دی۔ اس وقت کی حاضری میں میں نے عالم مٙاکٙانٙ وٙمٙا یٙکُوْنُ سے تین سوالات ایسے کئے جن کا جواب نبی کے سوا دوسرا کوئی نہیں دے سکتا۔


حضرت عبد اللہ بن سلام کے تین سوال٭٭٭٭ 

 اور

حضور ﷺ کے تین جواب٭٭٭٭٭


1۔ قیامت کی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟


2۔ اہل جنت کی دعوت کے لیے سب سے پہلے کیا چیز پیش کی جائے گی؟


3۔ بچہ کب اپنے باپ کی صورت میں ہو گا اور کب اپنی ماں کی صورت میں


آپ ﷺ نے فرمایا:

1۔ قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہو گی جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر لائے گی۔


2۔ اہل جنت کی دعوت میں جو کھانا سب سے پہلے پیش کیا جائے گا وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ ہو گا


3۔ جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غلبہ کر جاتا ہے تو بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غلبہ کر جاتا ہے تو بچہ ماں کی شکل پر ہوتا ہے۔

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے

«أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أنك رسول الله.»

”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“


حضرت عبداللہ بن سلام کا قبول اسلام
حضرت عبداللہ بن سلام کا قبول اسلام





ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی