حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" کا جذبۂ عشق

 

حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" کا جذبۂ عشق

حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" کا جذبۂ عشق

حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" کا جذبۂ عشق

حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" ایک پاؤں سے لنگڑے تھے۔ ان کے چار نوجوان بیٹے ہمیشہ حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہ کر تمام غزوات و جہاد میں اپنی خدمت پیش کیا کرتے تھے۔ جب جنگِ احد ٣ ہجری کا معرکہ پیش آیا تو حضرت عمرو بن جموع انصاری "رضی اللہ عنہ"نے چاہا کہ وہ بذاتِ خود غزوۂ احد میں شریک ہو کر حضور اکرم ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل کرے لیکن انکی قوم کے لوگوں نے انہیں کہا کہ تم ایک معذور شخص ہو اس لئے تم پر جہاد فرض نہیں ہے۔ 

اور تمہارے چار بیٹے پہلے سے جہاد میں مصروفِ خدمت ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمرو بن جموع  "رضی اللہ عنہ" نے کہا میرے بیٹوں کی کتنی خوش نصیبی ہے کہ وہ جنت میں چلے جائیں اور میں یہاں بیٹھا رہوں۔ حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" جہاد کے لئے اتنے بے چین ہوۓ کہ گھر آکر اپنی بیوی ہند بنت عمرو بن حرام کو بتایا۔ انکی بیوی نے کہا کہ تم کس طرح جہاد کر سکتے ہو۔ تم تو ایک لنگڑے اور معذور شخص ہو۔ مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ اگر تم جنگ پر گئے تو میدان جنگ سے بھاگ کر لوٹ آؤگے۔ حضرت عمرو بن جموع اپنی بیوی کی بات سن کر طیش میں آگئے اور اپنے ہتھیار اٹھا کر بارگاہِ خداوندی میں دست بدعاء ہو کر عرض کی  "میرے پروردگار مجھے میرے گھر والوں کی طرف شرمندہ اور خوار مت لوٹانا اور مجھے شہادت نصیب فرما" یہ دعا مانگ کر آپ "رضی اللہ عنہ" اپنے گھر سے معرکۂ احد کی طرف روانہ ہوگئے۔


حضرت ابو طلحہ "رضی اللہ عنہ" فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" کو دیکھا کہ وہ لٹک لٹک کر چلتے تھے اور یہ کہتے ہوئے جنگ فرماتے تھے کہ خدا کی قسم! میں جنت کا مشتاق ہوں۔ انکے چاروں بیٹوں نے اپنے والد کے ہمراہ جنگ میں دلیری و جوانمردی دکھا کر دادِ شجاعت حاصل کی یہاں تک کہ حضرت عمرو بن جموع اور انکے چاورں صاحبزادے معرکۂ احد میں لڑتےلڑتے شہید ہوگئے۔ 

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ"رضی اللہ عنہا" فرماتی ہیں کہ حضرت عمرو بن جموع "رضی اللہ عنہ" کی زوجہ حضرت ہند بنت عمرو بن حرام "رضی اللہ عنہا" کو اطلاع ملی کہ انکے شوہر، چاروں بیٹے اور بھائی شہیدہوگئے ہیں۔ تو وہ معرکۂ احد میں آئیں اپنے شوہر، بھائی اور چاروں بیٹوں کے جسموں کو اونٹوں پر لاد کر مدینہ منورہ لے کر جانا چاہتی تھیں تاکہ انہیں مدینہ منورہ میں دفن کریں۔ لیکن اونٹ زانو کے بل بیٹھ جاتا۔ اور جب جھڑک کر اونٹ کو اٹھاناچاہتی تو  بالکل بھی نہیں ہلتا۔ اور اگر احد کی طرف انٹ کو چلاتی تو بغیر کسی دشواری کے  چلتا لیکن جب مدینہ کی طرف ہانکتیں تو اونٹ بیٹھ جاتا۔dosra حضرت ہند بنت عمرو بن حرام "رضی اللہ عنہا" پریشان ہوکر حضور اقدسﷺ سے سارا ماجرہ بیان کیا۔ حضور اقدسﷺ نے فرمایا! تیرے شوہر نے گھر سے نکلتے وقت کیا کہا تھا؟ ہند بنت عمرو بن حرام نے عرض کی کہ یا رسول اللہﷺ! میرے شوہر نے گھر سے نکلتے وقت روبقبلہ ہو کر دعا کی تھی کہ یااللہ مجھے میرے گھر کی طرف نہ لوٹانا۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا یہی وجہ ہے اونٹ مدینہ کی طرف نہیں جاتا کیونکہ اونٹ خدا کے حکم پر مامور ہے۔


 پھر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اے ہند بنت عمرو تیرا شوہر، تیرے بیٹےاور تیرا بھائی جنت میں ایک ساتھ ہیں۔ پھر حضور ﷺ نے ان سب کو میدان احد میں دفن فرمایا۔حضرت عمرو بن جموع اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام کو ایک ہی قبر میں دفن فرمایا

اللہ تعالٰی ان سب سے راضی ہو




ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی