حضرت عمار ابن یاسررضی اللہ عنہ

حضرت عمار ابن یاسررضی اللہ عنہ

حضرت عمار ابن یاسررضی اللہ عنہ

  حضرت عمار ابن یاسررضی اللہ عنہ


نام

 عمار رضی اللہ عنہ

 والد 

 حضرت یاسر رضی اللہ عنہ

کنیت 

ابو یقظان


قبول اسلام

 عرب کی سرزمین اسلام کی نورانی کرنوں سے منور ہوئی تو آپ کے ساتھ ساتھ والد ماجد حضرت سیدنا یاسر اور والدہ ماجدہ حضرت بی بی سمیّہ اور بھائی حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سینہ بھی ایمان کی کرنوں سے جگمگانے لگا۔

 (طبقات ابن سعد 3 /186)


 اسلام کی خاطر قربانیاں 

 

چونکہ یہ مقدس گھرانا غلامی کی زندگی بسر کر رہا تھا اسی وجہ سے کفار قریش پورے گھرانے کو طرح طرح کی سزائیں اور تکالیف دینے لگے، حضرت بی بی سمیّہ رضی اللہ تعال عنها ایک نڈر اور بہادر خاتون تھیں ایک مرتبہ ابو جہل نے گالیاں بکتے ہوئے حضرت بی بی سمیّہ رضی اللہ تعلی عنھا کی ناف کے نیچے اس زور سے تیر مارا کہ وہ خون میں لت پت ہو کر گر پڑیں اور اسلام کی سب سے پہلی شہید خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر والد ماجد حضرت یاسر اور بھائی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی کفار و مشرکین کا ظلم و ستم سہتے سہتے جام شہادت سے سیراب ہو کر ابدی میٹھی نیند سو گئے۔ 


ان مقدس حضرات کی شہادت کے بعد بھی کفار مکہ کو حضرت عمار رضی اللہ تعالی عنہ پر رحم نہ آیا۔ کبھی ایمان سے لبریز سینے پر بھاری بھرکم پتھر رکھ دیتے تو کبھی پانی میں غوطے دے کر بے حال کر دیتے اور کبھی آگ سے جسم داغدار کر کے نڈھال کر دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی پیٹھ مبارک ان زخموں سے بھر گئی، بعد میں کسی نے آپ کی پیٹھ کو دیکھا توپوچھا: یہ کیسے نشانات ہیں ؟ ارشاد فرمایا: کفار قریش مجھے مکہ کی تپتی ہوئی پتھریلی زمین پر ننگی پیٹھ لٹاتے اور سخت اذیتیں اور تکالیف پہنچاتے تھے، یہ ان زخموں کے نشانات ہیں۔


 فضائل ومناقت

 آپ رضی اللہ عنہ کی قربانیوں کے صلے میں بارگاہ رسالت ﷺ سے ملنے والے چند انعامات


جنت عمار کی مشتاق ہے۔ (ترمذی،438/5 حدیث 382 


جس نے عمار سے بغض رکھا اللہ تعالی نے اسے مبغوض رکھا ۔ مسند امام احمد / حدیث 16814) 


کتنے ہی ایسے کمبل پوش ہیں کہ لوگ جن کی کوئی پروا نہیں کرتے لیکن اگر وہ کسی بات کی قسم کھالیں تو اللہ تعالی ضروران کی قسم کو پوری فرمادیتا ہے اور ان ہی لوگوں میں عمار بن یاسر کا شمار ہوتا ہے۔ ( معجم اوسط 194/4 حدیث 5686) 


ایک مرتبہ یوں فرمایا: اللہ تعالی نے عمار کو سر سے لے کر پاؤں تک ایمان سے بھر دیا ہے ، عمار کے خون اور گوشت میں ایمان سرایت کر چکا ہے۔

( تاریخ ابن عساکر، 393/43 ) 


 حجرت عمار ابن یاسر نے فرمایا  کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہمراہی میں شیطان اور انسان سے جنگ لڑی ہے ، کسی نے حیرت سے پوچھا: انسان سے جنگ لڑی ہے یہ تو سمجھ میں آتا ہے مگر شیطان سے کس طرح جنگ لڑی؟ ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ ہم نے دوران سفر کسی جگہ پڑاؤ کیا تو میں نے اپنا مشکیزہ اٹھایا اور پانی بھرنے کے لئے چل پڑا، مجھے دیکھ کر نبی کریم صل اللہ ﷺ  نے فرمایا: کوئی تمہارے پاس آۓ گااور پانی بھرنے سے روکے گا۔ جب میں کنویں کے قریب پہنچا تو ایک کالا کلوٹا شخص بڑی تیزی سے میری جانب لپکا اور کہنے لگا: جب تک کوئی گناہ نہیں کروگے میں پانی نہیں بھر نے دوں گا، یہاں تک کہ ہم دونوں میں لڑائی شروع ہو گئی اچانک میں نے اس کو پچھاڑ دیا اور قریب پڑا ہوا پتھر اٹھا کر اس پر دے مارا جس کی وجہ سے اس کی ناک ٹوٹ گئی اور چہرہ بگڑ گیا، اس کے بعد مشکیزے میں پانی بھرا اور بار گاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہو گیا، پیارے آقاءِ دو جہاں ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! اور پورا قصہ عرض کیا۔ ارشاد فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ کون تھا؟ عرض کی: جی نہیں، فرمایا: وہ شیطان تھا۔ 

(طبقات ابن سعد،190 ماخوذا)


عادات مبار کہ 

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی گفتگو بہت ہی کم اور خاموشی طویل ہوا کرتی تھی جبکہ اکثر و بیشتر خوف خدامیں ڈوبے رہتے اور آنے والے فتنوں سے پناہ مانگا کرتے تھے

(تاریخ ابن عساکر، 48 486

 صلٰوة الاوّابین

آپ رضی اللہ عنہ روزانہ مغرب کی نماز کے بعد کچھ (6) رکعت نفل ضرور پڑھتے تھے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا میں نے اپنے محبوب آقا ﷺ کو مغرب کے بعد رکعتیں ادا کرتے دیکھا تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جو مغرب کے بعد چھ رکعتیں ادا کرے گا اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اگر چہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔

 (معجم اوسطاء 258/7، حدیث: 7245) 


فکر آخرت

 ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا گزر ایک ایسی جگہ سے ہوا جہاں ایک مکان تعمیر ہو رہا تھا مالک مکان نے آپ کو دیکھا تو کہا: آیئے اور میرا گھر دیکھ کر بتائے کہ کیسا بتا ہے؟ گھر دیکھنے کے بعد آپ نے فرمایا: بڑا مضبوط بنایا ہے، خوب غور و خوض کیا ہے لیکن عنقریب تمہیں موت کے شکنجے میں پھنس جانا ہے۔ 

( تاریخ ابن عساکر ، 445/43) 


ایک دفعہ کچھ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے کہ بیماری کا تذکرہ ہوا تو ایک دیہاتی نے فخریہ انداز میں کہا: مجھے کبھی بخار نہیں ہوا، یہ سنتے ہی آپ نے فرمایا تو ہم میں سے نہیں ہے کیونکہ کامل ایمان والے کو مصیبتوں سے آزمایا جاتا ہے اور اس کے گناہ اس طرح گرتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ 

(شعب الایمان، 178/7ء حدیث:9913) 


 مجاہدانہ کارنامے

 آپ رضی الله تعالی عنہ سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوۓ۔

 (تاریخ ابن عساکر، 43 /1350) 


جنگ یمامہ میں ایک موقع پر مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی تو آپ ٹیلے پر چڑھ گئے اور بلند آواز سے کہا: اے مسلمانوں کے گروہ جنت امن و امان والی جگہ ہے ، بھاگتے کہاں ہو؟ میری طرف آؤ ! میں عمار بن یاسر ہوں ، اس دوران ایک کافر نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو آپ کاایک کان کٹ کر زمین پر گرا ، اس کے باوجود آپ رضی اللہ تعالی عنہ نہایت جوش و خروش سے جہاد میں  مصروف رہے 

   ۔ (طبقات ابن سعد 30 192 )

 ایک مرتبہ کسی نے آپ کو کٹے ہوئے کان پر طعنہ دیا تو آپ نے فرمایا تم مجھے طعنہ دے رہے ہو حالانکہ یہی کٹا ہوا کان  زیادہ اچھا لگتا ہے کیونکہ یہ راہ خدا میں قربان ہوا ہے۔ 


کوفہ کی گورنری 

آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رعون اللہ عنہ کے دور خلافت میں 21 مہینے تک کوفہ کی گورنری کے فرائض سر انجام دیئے۔


 شہادت

 آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بروز بدھ 7 صفر المظفر سن 37 ہجری میں جنگ صفین میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دفاع میں لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا، اس وقت آپ کی عمر مبارک 93 سال تھی



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی