حضرت سواد کا میدانِ بدر میں حضور ﷺ سے بدلہ لینے کا محبت بھرا داستان

حضرت سواد کا میدانِ بدر میں حضور ﷺ سے بدلہ لینے کا محبت بھرا داستان

حضرت سواد کا میدانِ بدر میں حضور ﷺ سے بدلہ لینے کا محبت بھرا داستان

حضرت سواد کا میدانِ بدر میں حضور ﷺ سے بدلہ لینے کا محبت بھرا داستان


حضرت سواد "رضی اللّٰہ عنہ"نے موقع غنیمت جانا اور غرض کیا یارسواللّٰہ ﷺ آپنے میرے پیٹ پہ جو لکڑی ماری ہے میں آپﷺ سے اسکا بدلہ لونگا۔ صحابۂ کرام "رضی اللّٰہ عنہم" حیرت میں پڑگئے کہ اس مشکل گھڑی میں سواد کو کیا ہوگیا ہے۔ 
غزوۂ بدر کے موقع پر آقائے دوجہاں ﷺ جنگ کے لئے صفیں سیدھی فرماتےہوئے جب حضرت سوادانصاری "رضی اللّٰہ عنہ" کے پاس پہنچے۔ حضرت سوادانصاری"رضی اللّٰہ عنہ"کا پیٹ قدرے بڑا تھا جو صف سے باہر نکلا ہوا تھا۔ سیدِ عالمﷺ نے انکے پیٹ ہلکا سا چھڑی مارتے ہوئے فرمایا۔ اے سواد! سیدھے کھڑے ہوجاؤ۔

لیکن عادل و رحیم آقا ﷺ حضرت سواد"رضی اللّٰہ عنہ" کی بات سن کے اپنا کپڑا اوپر اٹھاتے ہوئے فرمایا۔ اے سواد"رضی اللّٰہ عنہ" میرا پیٹ حاضر ہے اپنا بدلہ لےلو جس سے چھڑی آپکو تکلیف پہنچی ہے اسی چھڑی سے مارو۔ حضرت سواد "رضی اللّٰہ عنہ" جانِ عالم ﷺ کے قریب ہوئے آپ ﷺ کے مبارک پیٹ کو چوما اور آپﷺ کے جسم مبارک سے چمٹ گئے۔ نبیٔ رحمتﷺ نے فرمایا اے سواد یہ کیا ہے تم تو اپنا بدلہ لینا چاہتے تھے؟ حضرت سواد "رضی اللّٰہ عنہ" عرض کرنے لگے یا رسول اللّٰہ ﷺ اس وقت میں میدانِ جنگ میں ہوں کیا پتہ میری موت کا وقت قریب آجائے اور میں شہید ہوجاؤں پس میرے دل میں تمنا پیدا ہوئی کہ میرا جسم آپﷺ کے مبارک جسم سے مس ہوجائے۔ اللّٰہ تبارک وتعالٰی نے مجھے یہ موقع نصیب فرمایا۔ مجھے یقین ہے اب میرے جسم پر جہنم کی آگ حرام ہوگئی۔ جو میرا مقصد تھا وہ پورا ہوگیا اب میں آپ ﷺ کو معاف کرتا ہوں

یہ تھا صحابۂ کرام رضی اللّٰہ عنہم اجمعین کا عشق ومحبت۔ گویا حضرت سواد رضی اللّٰہ عنہ کئی سالوں سے آقائے دوعالم ﷺ کے جسم اطہر کا بوسہ لینے کے لئے تڑپ رہے تھے اور جیسے ہی موقع ملا اپنے اندر کی پیاس بجھانےکا تو کیسے اسے گنواتے۔ 


جب تک زمین میں شمس و قمر کا نظام ہو

محبوب کبریا پر کروڑوں سلام ہو

جس دل میں بس گئی ہے محبت حضورﷺ کی 

پھر کیوں نہ اس پر آتش دوزخ حرام ہو



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی