شمع رسالتﷺپر صحابہ کرام کی پروانہ وار جان نثاری

شمع رسالتﷺپر صحابہ کرام کی پروانہ وار جان نثاری

شمع رسالتﷺپر صحابہ کرام کی پروانہ وار جان نثاری
شمع رسالتﷺپر صحابہ کرام کی پروانہ وار جان نثاری



صلح حدیبیہ کے موقع پر کفار قریش کی جانب سے عروہ بن مسعودثقفی کو بات چیت کرنے کے لئے حضور اقدس کی خدمت میں بحیثیت نمائندا بهیجا گیا تھا۔ عروه بن مسعود ثقفی نے حضور اقدس جان ایمان ﷺ کےساتھ غرور اور تکبر کے لہجے میں گفتگو کرتے هوئے شان اقدسﷺ کے خلاف جملے کہے۔ نیز کہا کہ آپ کے آس پاس اوباش اور آوارہ لوگ جمع هوگئے ہیں اور جب وقت آۓگا تو آپ کو تنہا چهوڑ کر بهاگ جا ئیں گے۔

عروه بن مسعود ثقفی نے جاں نثار صحابہ کرام کو بیوفا اور بهاگنے والا کہہ کر صحابہ کرام کے جذبۂ صادق پر کاری ضرب لگائی تھی۔ عروہ کی بات سن کر اصدق الصادقین حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جلال آگیا اور آپ نے عروه کو مخاطب کرکے فرمایا! کیا ہم بهاگ جا ئیں گے اور آپﷺکو تنہا چهوڑ دیں گے؟

عروه بن مسعود ثقفی نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بات پر سر اٹھایا اور کہنے لگاکہ یہ کون ہیں جو ایسی بات کہتے ہیں؟  صحابہ نے بتایاکہ یہ ابوبکر صدیق ہیں۔

پس عروه نے کوئی جواب نہ دیا پهر عروه بن مسعود حضورﷺسے گفتگو کرنے لگا اور دوران گفتگو باربار حضورﷺ کی ریش مبارک یعنی داڑھی مبارک تک اپنا ہاتھ لے جاتا اور کچھ گستاخانہ حرکتیں کرتا۔عروه کو اس طرح گستاخانہ لہجے میں بات کرتا دیکھ کر حضرت مغیره بن شعبہ رضی اللہ عنہ غصہ میں لال هوگئے اور انہوں نے اپنی تلوار کے کندے سے اس کے ہاتھ پر مار کر فرمایا کےاو بےادب!  اپنے ہاتھ کو بچا کےرکھ اور حد سے تجاوزنہ کر۔

عروه بن مسعود ثقفی نے پو چھا کہ یہ شخص کون ہے؟ صحابہ نے بتایاکہ یہ مغیره بن شعبہ ہیں۔ 

عروه نے اپنی نازیبا حرکت تھوڑی ہی دیر میں دو عاشقوں کی زجر و تو بیخ سے سہم کر ترک کردیا اور گستاخانہ طرز گفتگو چھوڑ کر سنجید گی سے بات کرنے لگا۔

ارباب سیر بیان کرتے ہیں کے بات چیت کے دوران عروه بن مسعود گوشہ چشم سے حضور اقدس ﷺ کی مجلس میں موجود صحابہ کرام کو دیکھ رہا تهااور صحابہ کرام کے جذبۂِ ادب و تعظیم اور پاس و لحاظِ عظمت رسولﷺکا مشاهده کر رہاتھا۔ صحابہ کرام رضوان اللّہ علیہم اجمعین کا اکرام و تو قیر دیکھ کر وه حیران و ششدر تها۔


جب عروه بن مسعودمشرکوں کے گروه میں واپس گیا تو اس نے کہا کے اے گروه قریش! میں بڑے بڑے متکبر و مغرور سلاطین وبادشاہوں کی مجلسوں میں رہاہوں میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے دربار میں گیاہوں ان کی خلوت و جلوت میں رہا ہوں لیکن میں نے ان میں سے کسی بادشاه کے کسی خدمتگار کو ایسا ادب واحترام کرتے نہیں دیکھا۔

محمد ﷺ کے دوست اسکا ایسا ادب و احترام کرتے  ہیں کہ جب وه اپنے دهن مبارک سے لعاب شریف نکالتے ہیں تو صحابہ اسے اپنے ہاتھوں میں لےکر اپنے رخساروں پر ملتے ہیں۔ جب کسی ادنیٰ اور معمولی کام کا حکم دیتے ہیں تو اس کی تعمیل کے لئے بزرگ ترین صحابہ بھی سبقت کرتے ہیں۔ جب ان کے حضور کوئی بات کرتا ہے تو وه آواز کو پست کرکے بات کرتا ہے۔ اور جب وه گفتگو فرماتے ہیں تو تمام لوگ انتہائی ادب واحترام کے ساتھ ہمہ تنِ گوش ہوکرسنتے ہیں اور ان کے روئے مبارک پرکوئی نگاہ نہیں جما سکتا۔ وضو کرتے ہیں تو وضو کا پانی زمین پر نہیں گرتا بلکہ صحابہ اسے بهی اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور اس کے حصول میں ایسی سبقت کرتے ہیں کہ جھگڑے تک کی نوبت آ پہنچتی ہے۔  اور ایسا گمان گزرتا ہے کہ اس پر خون ریزی  شروع ہوجائے گی۔ جب داڑھی شریف اور سر میں کنگها فرماتے ہیں اور کوئی موۓ مبارک جسم شریف سے الگ ہوتا ہے تو اس کو عزت واحترام کے ساتھ تبرّک جان کر صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔

یہ وه حالات ہیں جن کا میں نے اپنے سر کی آنکهوں سے مشاہدہ کیا ہے۔ عروه مسعود نے مزکوره بالا باتیں کہنے کے بعد قومِ قریش کے سامنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شجاعت، مردانگی، یک جہتی، اولو العزمی، جوش جهاد، شوق شہادت، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایثار و محبت کا ذکر کرتے ہوۓ اپنی قوم سے کہا کے خدا کی قسم میں نے ایسا لشکر دیکھا ہے جو تم سے کبھی منہ نہ موڑے گا میدان جنگ میں یہ تم سب کو مار ڈالیں گے اور تم پر غالب آجائیں گے۔

نوٹ

حضرت عروه بن مسعود ثقفی صلح حدیبیہ کے بعد ایمان لاۓ ایمان لانے کے بعد اپنے وطن پہنچ کر اپنی قوم کو دعوت اسلام دی لیکن ان کی قوم انکار کرکے سر کشی پر اتر آئی یہاں تک کہ ایک دن فجر کی نماز کے وقت وه اپنے مکان کی کهڑ کی دروازوں کو کھلا رکھ کر علی الا علان اذان کہنے لگے اذان میں جب کلمہ شھادت پر تهے کے ان کی قوم کے کسی شخص نے تیر پهینکا اور حضرت عروه بن مسعود شہید هوگئے 

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین کو  اپنے آقا ومولیٰ کے ساتھ والهانہ عشق اور اپنے آقا ومولیٰ کے نام پر مر مٹنے کا جو جذبۂ صادق تها اس کی مثال کسی بهی تاریخ میں نہیں پائی جاتی۔ آپ ﷺ کے حکم کی بجا آوری میں اپنی جان قربان کردینے میں ہی سعادت دارین سمجهتے تھے۔ جام شهادت پینے میں لمحہ بھر بھی تاخیر و تاّمل نہیں کرتے تھے

 

کروں تیرے نام پہ جن فدا بس ایک جن دوجہان فدا

دوجہاں سےبھی نہیں جی بھرا کروں کیاکروڑوں جہاں نہیں



ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی