حضرت عمر بن الحمام کا شوق شہادت

 حضرت عمر بن الحمام کا شوق شہادت


جنگ بدر کے دن حضور اکرم صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ  صحابہ کرام مخاطب کرکے فرمایا

حضرت عمر بن الحمام رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کا شوق شہادت
حضرت عمر بن الحمام رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ

اور جان لو! قسم ہے اس ذات کی جس کی قبضہء قدرت میں میری جان ہے، جو حق تعالی کی رضا اور  طلب ثواب میں ان کافروں سے جنگ کرے ، پھر خدا کی راہ میں شہید ہوجائے  تو اس کے لئے بہشت جاوداں ہے


         حضرت عمر بن الحمام رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ چند کھجوریں  ہاتھ میں لے کر کھارہے تھے، انہوں نے کہا  خوشی اور مژدہ ہو مجھے کہ میرے اور جنت کے درمیاں کوئی فاصلہ نہیں۔ بجز اسکے کہ میں کافروں کے ہاتھوں شہید ہوجائوں ِیہ کہ کر انھوں نے ہاتھوں سے کھجوریں پھینک دیں اور تلوار  ہاتھوں میں لےکر  کفار کے ساتھ جنگ کرنےمیں مشغول ہوگئے  اور  شہید ہوگئے 


یہ تھا صحابہ کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ تٙعٙالٰی عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن کا  عشق رسول صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ پر مرمٹنے کا جذبہٴ صادق ، جس کو صحابہ کرام نے ہرامر، ہر خواہش، اور ہر قدم پر مقدم رکھا۔ اپنے آقا و مولا صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جانیں بطور نذرانہ اس طرح پیش کیں کہ تاریخ بھی اس طرح مترنم لہجے میں کہتی ہے


صدقہ ہونے کو چلےآتے ہیں لاکھوں گلزار 

کچھ عجب رنگ سے پھولا ہے گلستان عرب




ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی