غسیل الملائکہ حنظلہ بن ابی عامر رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ

غسیل الملائکہ حنظلہ بن ابی عامر رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کی عشق رسول صٙلّٙ اللّٰہُ  تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ میں جان نثاری

   شمع رسالت پر نثار ہونے والوں میں حضرت حنظلہ بنابی عامر رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ بھی تھے۔ جس دن احد کا معرکہ وقوع میں آیا

غسیل الملائکہ حنظلہ بن ابی عامر رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کی عشق رسول صٙلّٙ اللّٰہُ  تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ میں جان نثاری
الملائکہ حنظلہ بن ابی عامر رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ


اسی دن ان کی شادی ہوئی تھی۔ اپنی زوجہ کے ساتھ حجرہء عروسی میں تھے، شب زفاف اپنی شریک حیات کی دلداری فرمارہے تھے کہ اچانک کان میں آواز آئی محبوب خدا صٙلّٙ اللّٰہُ  تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ اور ان کے ساتھیوں پر کفار مکہ حملہ آور ہوئے ہیں۔ حضرت حنظلہ رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کو حمام جاکر غسل کرنے کی بھی مہلت نہ مل سکی فورًا معرکہء احد کی طرف نکل پڑے۔ حضرت حنظلہ رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ جب میدان جنگ میں پہنچے تو جنگ کی آگ کے شعلے بلند ہوگئے تھے۔ لڑائی کا تنور گرم تھا۔ وہ مجاہدین کے ہمراہ مصروف جہاد ہوگئے اتفاقًا ان کا سامنہ ابو سفیان بن حرب سے ہوگیا۔ حضرت حنظلہ رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ نے ابوسفیان کو گھوڑے سے کھینچ کر زمین پر گرادیا۔ ابوسفیان چلّانے لگے اے گروہ قریش میں ابسفیان ہوں حنظلہ میرے قتل پر آمادہ ہوا ہے، یہ کہہ کر وہ بھاگنے لگا۔ حضرت حنظلہ حنظلہ رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ نے اسکا تعاقب کیا اسی اثنا میں اسود بن شعوب ابو سفیان کی مدد کو آ پہنچا اس نے حضرت حنظلہ پر حملہ کیا اس شدت سے نیزہ مارا کہ نیزہ حضرت حنظلہ کے سینے کے آرپار ہوگیا اور وہ شہید ہوگئے۔

جنگ ختم ہونے کے بعد حضورصٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ نے فرمایا میں نے ملائکہ کو دیکھا کہ وہ حنظلہ بن ابی عامر کو آسمان اور زمین کے درمیان ایک بڑے طشت میں ماءمزن یعنی برسات کے سفید پانی سے غسل دے رہے تھے۔


مسئلہ

 شہید کے احکام میں سے ہے کہ شہید کو غسل اور کفن نہیں دیا جاتا بلکہ اسے غسل دیئے بغیر انہیں خون آلود کپڑوں میں دفن کیا جاتا یے


حضور اقدس صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ شہداء اسلام کو اسی طرح بےغسل و کفن صرف نماز جنازہ پڑھ کر دفن فرماتے تھے۔


"حضور اقدس رحمت عالم صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ نے حضرت حنظہ رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کو فرشتوں کا غسل دینے کا منظملاحظہ فرمانے کے بعد جب ذکر فرمایا تو ابو الاسید السامری نے حضرت حنظلہ بن ابی عامر کی لاش کو جاکر دیکھا تو ایک عجیب منظر تھا۔ حنظلہ غسل دیئے گیے تھے اور ان کے سر سے پانی ٹپک رہا رھا تھا حضور اقدس رحمت عالم صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ نے کسی کو بھیج کرحضرت حنظلہ کی بیوی حضرت جمیلہ رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْھا سے دریافت فرمایا تو انھوں نے فرمایا حضرت حنظلہ حالتِ جنابت سے میرے پاس سے نکلے تھے۔ حضور اکرم صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ نے فرمایا حضرت حنظلہ فرشتوں کا غسل دینا جنابت کی وجہ سے ہے کیونکہ انہیں غسل کی حاجت تھی جب وہ شہید ہو گئے




ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی