صحابہء کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن کا جذبہ عشق نبی صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙم

 صحابہء کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن کا جذبہ عشق نبی صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙم 


ہر نبی اور ہر رسول عٙلٙیْھِمُ الصّٙلٙاةُ وٙالسّٙلاٙم کے جان نثار اورحواری ہر دور میں ہوئے۔ اور ہر دور کے حواریوں نے اپنی محبت و وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے نبی کی اطاعت و مدد میں ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن  سید الانبیاء، افضل الخلق، سید عالم صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کے حواری یعنی ساتھیوں نے عشق ومحبت کا جو عالم گیرپیغام وثبوت دیا اسکی مثال دنیا کی کسی بھی تاریخ  میں نہیں پائی جاتی۔


صحابہ کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن کی مقدس اور پاکیزہ جماعت نے اپنے آقا و مولا  صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کے ساتھ عشق صادق کا سلوک کرتے ہوئے یہی کہا اور کیا




کروں تیرے نام پہنجان فدا، نہ بس ایک جان، دو جہاں فدا

دو جہاں سے بھی نہیں جی بھرا کروں کیا کروڑوں جہاں نہیں




محبوب رب العالمیں صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کے عشق و محبت  میں سرشار ہوکر انہوں نے دنیا کی کسی بھی چیز کی پرواہ نہیں کی۔ بڑی سے بڑی طاقت کو خاطر میں نہیں لائے۔ تحفظ ناموس رسالت کی خاطر اپنا سب کچھ نچھاور کردیا۔ اپنے آقا و مولا صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کی عظمت و محبت کو مقدم جان کر اس محبت کے آداب کی بجا آوری میں ہنسی خوشی اپنی جان تک قربان کردی۔ اپنے آقا و مولا صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کے نام پر مرمٹنے میں ہی انہوں نے اپنی حیات جانی اور اس شوق  میں اپنے سر کٹا کر حیات جاودانی پائی




جنگ بدر کے موقع پر حضور صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ

صحابہ کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن کے ساتھ مشورہ فرمایا اور لشکر کفار کے مقابلے میں انکی رائے طلب فرمائی تو صحابہ کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن نے اپنے آقا و مولا صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کی خدمت میں یوں عرض کیا۔


حضرت سعد بن عبادہ رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ نے عرض کیا یارسول اللہ! خدا کی قسم! آپ ہمیں عدن تک لے جائیں گے ہم انصار میں سے کوئی ایک شخص بھی آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرے گا

صحابہء کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن کا جذبہ عشق نبی صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙم
صحابہء کرام رِضْوٙانُ اللّٰہِ عٙلٙیْھِمْ اٙجْمٙعِیْن کا جذبہ عشق نبی صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙم 

حضرت مقداد بن عمرو نے یوں عرض کیا  یارسول اللہ! ہم آپکے ساتھ ہیں آپ جہاں بھی چاہیں ہمیں لے جائیں ہم کبھی بھی وہ بات اپنے منہ سے نہیں نکالیں گے  جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ عٙلٙیہ الصّٙلٙاةُ وٙالسّٙلاٙم سے  کہی تھی کہ "فٙاذْھٙبْ اٙنْتٙ وٙ رٙبُّکٙ فٙقٙاتِلاٙ اِنّٙا ھٰھُنٙا قٙاعِدُوْن" یعنی  جائیئے آپ اور آپ کا رب آپ دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا۔ ہم آپ کے ساتھ جائیں گے اور جہاں آپ جائیں گے آپ کے 
ساتھ مل کر مردانہ وار لڑیں گے


 


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی