حضرت خبیب بن عدی حضرت رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کا جذبہٴعشق نبی ﷺ

حضرت خبیب بن عدی رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کا جذبہٴعشق نبی 

کفار جب حضر

خبیب بن عدی حضرت رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ کا جذبہٴعشق نبی
حضرت خبیب بن عدؓ کا جذبہٴعشق نبی ﷺ

ت خبیب بن "رضی اللہ تعالی عنہ" کو گرفتار 

کر کے شہید کرنے کے لئے مو ضع تنعیم کی طرف لے جارہے تھے تو اثنائے راہ کفار ان سے کہنے لگے کہ اس وقت تمہاری خواہش یہ ہوگی کہ اس وقت دارپر تمہاری جگہ پہ محمد ﷺ  ہوتے اورتم اپنے گھر میں سکون اور سلامتی سے ہوتے۔ اس پر حضرت خبیب نے فرمایا "خدا کی قسم! میں یہ بھی گوارہ نہیں کرتا کہ حضور ﷺ  کے مبارک پائون میں ایک کانٹا بھی چبھے اور میں گھر میں سلامت بیٹھا رہوں۔ اس پر کفار برانگیختہ ہوئے اور آپ کے ساتھ طرح طرح کی سختیاں اور بیہودگیاں کی اور آپ کو قتل کرنے پر آمادہ ہوئے۔ حضرت خبیب رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ اس سنگین ماحول میں بھی سرورکائنات  کی یاد میں بے خود و مستغرق رہے۔ اور اپنے آقا کے دربارِعالی میں اپنی دلی کیفیت پہنچانے کے لئے اللہ رب العزّت کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں"اے میرے رب! میں اس جگہ دشمنوں کے سوا کسی کو نہیں دیکھتاہوں اور دوستوں میں کوئی یہاں موجود نہیں جو میرا پیغام تیرے حبیب  تک پہنچائے اے میرے اللہ! توہی میرا سلام بارگاہ رسالت صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ میں پہنچادے۔

 حضرت زید بن ثابت رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ فرماتے ہیں ک اس وقت میں آقائے دوجہاں  کی مجلس میں موجود تھا کہ اچانک سرور کائنات  پر وحی کے آثار ظاھر ہونے لگے اسکے بعد زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے "رحمة اللہ علیہ" پھر فرمایا خبیب کو قریش نے شہید کردیا اور یہ جبرائیل امین ہیں جو ان کا سلام پہنچارہے ہیں 


          حضرت خبیب بن عدی رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے اعزّاء اقرباء کی یاد نہ آئی اور نہ ہی ان تک اپنا پیغام و سلام پہنچانے کی خواہش ہوئی۔ مگر اپنےمحبوب آقا  کے ساتھ ان کے والہانہ عشق کی یہ کیفیت تھی نظروں کے سامنے موت سر پر ناچ رہی ہے۔ گھڑی دو گھڑی میں جان جسم سے جدا ہوجائے گی۔ لیکن اسکی کوئی فکر نہیں ہے بلکہ ایمان کی جان  سے جدائی اور فراق کا رنج و غم ہے۔ بارگاہ رسالت میں حاضری اور باریابی کی خواہش ہے۔ 

سرہانے ان کے بسمل کے یہ بیتابی کا ماتم ہے

شہ کوثر ترحم تشنہ جاتا ہے زیارت کا 

                   اور                  

موت سنتا ہوں ستم تلخ ہے زہرابہء ناب

کون لادے مجھے تلووں کا غسالہ تیرا




1 تبصرے

جدید تر اس سے پرانی