حضرت عبداللہ بن زید انصاری کا حضورﷺ کی جدائی برداشت نہ کرتے ہوئے اندھے ہونے کی دعا کرنا


حضرت عبد اللہ بن زید کی فراق ﷺ میں نابینا ہونا
حضرت عبد اللہ بن زید کی فراق ﷺ میں نابینا ہونا

حضرت عبداللہ بن زید انصاری کا حضورﷺ  کی جدائی برداشت نہ کرتے ہوئے اندھے ہونے کی دعا کرنا*


حضرت عبد اللہ بن زید رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ اپنے کھیت پر تھے جب انکو حضور اکرم صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کی رحلت کی اطلاع ملی۔ حضرت عبداللہ بن زید "رَضِىَ اللہُ تَعَالٰی عَـنْہُ"صاحب اذن اور مستجاب الدعوات تھے۔ انہوں نے اللّه رب العزت سے دعا کی کہ اے خدا! دنیا دیکھنے والی میری آنکھیں لےلے۔ اب ان آنکھوں کا کیا کام جب تیرے حبیب اکرم صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ کے جمال جہاں آرا سےمحروم ہوگئیں ہیں۔ میں ان آنکھوں سے تیرے محبوب کے سوا کچھ اور دیکھنا نہیں چاہتا تیرے محبوب صٙلّٙ اللّٰہُ تٙعٙالٰی عٙلٙیْہِ وٙاٰلِہ وٙسٙلّٙمٙ نے پردہ فرمالیا تو  اب میرا ان آنکھوں سے کیا کام؟ یہ آنکھیں واپس لےلے۔

       

      چنانچہ ان کی دعا قبول ہوگئی اور وہ اسی وقت نابینا ہوگئے ۔


تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا ښ


کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے جلوہ تیرا


 

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی